
محمدی مسجد حالی روڈ گلبرگ لاہور میں یومِ تکریم شہداء منایا گیا۔ سابق ایرانی صدر شہید آیت اللہ ابراہیم رئیسی کی صاحبزادی ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ایرانی قونصل جنرل مہران موحد فر، ڈی جی خانہ فرہنگ ایران ڈاکٹر اصغر مسعودی سمیت دیگر شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ تقریب میں شہدائے محورِ مقاومت ایران، شہدائے بنیان مرصوص اور شہدائے پاراچنار کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی کا کہنا تھا کہ ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ شہداء کی قربانیوں کے مقصد کو علمی جامہ پہنائیں گے۔ شہداء نے سیرت حسینؑ پر چلتے ہوئے اپنی جانیں ایک مقصد کیلئے قربان کیں، اور جو پیچھے رہ گئے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارِ زینبیؑ ادا کرتے ہوئے، اس مقصد کو زندہ رکھیں اور آنیوالی نسلوں تک اس کو بطور امانت پہنچائیں۔
ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی کا کہنا تھا کہ ان کے والد شہید ابراہیم رئیسی پاکستان کیلئے خصوصی محبت کا جذبہ رکھتے تھے۔ وہ پاکستان کو ایک عظیم اسلامی مملکت کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر شہید ابراہیم رئیسی زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ پاکستان کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور لاہور کی ثقافت ملتی ہے، ایرانی اور لاہوری بھائی بھائی ہیں۔ شہیدِ جمہور نہ صرف ایران بلکہ عالم اسلام کا فخر ہیں، ان کی شہادت پر پوری امت اسلامیہ نے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے شہید جمہور سے دلیری وراثت میں لی ہے، قرآن کریم کے زیرسایہ ہم سب کو ایک ہونا ہو گا۔ ڈاکٹر ریحانہ سادات کا کہنا تھا کہ ہم راہ حق میں آگے بڑھتے رہیں گے، ہمیں وعدہ کرنا ہوگا شہداء کی قربانیوں اور مقصد کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔ پرودگار ہمیں شہداء کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچائے، خدا ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے جن سے وہ راضی ہوں۔


































