
نئی دہلی : انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے لداخ میں احتجاج میں شدت آگئی ہے۔
پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ علاقے میں کرفیو لگادیا گیا۔ لداخ کے مرکزی شہر لیہہ میں طلبا نے ریاستی درجہ بحال کرنے کیلئے احتجاج کیا جس کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس کی گاڑی سمیت کئی گاڑیوں کو آگ لگادی۔
مظاہرین نے بی جے پی کا دفتر بھی جلادیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارچ اور آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔ پُرتشدد مظاہروں کے بعد حکام نے جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے چار سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی لگا دی ہے۔
مظاہرے سرکردہ سماجی کارکن سونم وانگ چک سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کیے گئے، جو گذشتہ دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ پُرتشدد احتجاج کے بعد انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے اور عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔


































