
کراچی : کراچی میں مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے زیر اہتمام مشاورتی اجلاس میں نام نہاد فوجداری بل کو مسترد کردیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے متنازعہ بل کو وطن دشمنوں اور دین اسلام کے دشمنوں کی سازش قرار دیا۔ مشاورتی اجلاس میں کراچی میں ملت جعفریہ کی نمائندہ تنظیموں، انجمنوں، علماء و ذاکرین و مدارس کے منتظمین نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب میں مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہاکہ پاکستان کو مسلکی پاکستان بنانے کی کانگریسی ایجنٹوں کی سازشوں کو مسترد کرتے ہیں۔ پی ڈی ایم کی امریکی غلام حکومت نے متنازع بل کو ایک سازش کے تحت چور دروازے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرایا۔ انہوں نےکہا کہ قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے دو دن قبل سازش کے تحت خفیہ طریقے سے پیش کیا گیا متنازعہ بل کے نفاذ کے بعد حدیث، رجال اور تفسیر کی کتب پر پابندی لگ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ متنازع فرقہ وارانہ بل رسول اکرم(ص)، اہل بیت رسول(ع) اور انکے عاشقوں کے خلاف سازش ہے یہ بل انہی لوگوں نے پیش کیا جنکے آباء و اجداد قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ انہوں نے کہا کہ متنازع بل کے ذریعے وطن عزیز کی مسلکی تقسیم کی سازش کی جارہی ہے جس کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن متنازعہ بل کیخلاف 16 اگست کو اسلام آباد میں قومی اجتماع ہوگا جس میں تمام ملی تنظیمیں ، علماء و ذاکرین و ماتمی ادارے شرکت کرینگے۔ شرکا نے قوم سے اپیل کی کہ بل کے خلاف ایم ڈبلیو ایم ۔ ایس یو سی اور تمام علمائے کرام، ذاکرین اور انجمن کا ساتھ دیں۔ ہم سب کو اس بل کے خلاف غیر خواندہ رویہ سے نہیں بیداری کے ساتھ لڑنا ہے۔


































