
تل ابیب: اسرائیل کی انسانی حقوق کی دو سرکردہ تنظیموں نے غزہ جنگ میں اسرائیل کا طرز عمل فلسطینی آبادی کی نسل کشی قرار دے دیا۔ بیت سلیم اور فزیشنز فار ہیومین رائٹس اسرائیل کے نمائندوں نے اکیس ماہ سے جاری جنگ کی جائزہ رپورٹ جاری کردی۔
بیت سلیم کی اٹھاسی صفحات پر مشتمل دستاویز میں کہا گیا ہے اسرائیلی پالیسی اور اس کے ہولناک نتائج کےجائزے، سینئر اسرائیلی سیاست دانوں اور فوجی کمانڈروں کے بیانات ٓسے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کے لیے مربوط کارروائی کر رہا ہے۔ بیت سلیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹریولی نوواک نے کہا کہ ان کی تنظیم کی رپورٹ ایسی دستاویز ہے جس کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمیں لکھنا پڑے گا۔
فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل کی پینسٹھ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اسرائیل نے اسپتالوں پر حملوں، طبی امداد اور انخلاء میں رکاوٹ اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اہلکاروں کے قتل اور حراست کے ذریعے شعبہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے حساب کتاب اور منظم طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ منسر نے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی فوج شہریوں کو نہیں دہشت گردوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔


































