
لندن : غیر ملکی ڈاکٹروں نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں بچوں کو منظم انداز میں نشانہ بنا رہی ہے۔ بیشتر بچوں کو سر یا سینے میں براہِ راست گولیاں ماری گئیں۔
رپورٹ کے مطابق غیر ملکی ڈاکٹروں نے 114 ایسے بچوں کی نشاندہی کی جن کا علاج انہوں نے غزہ میں رضاکارانہ مشنز کے دوران کیا، اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بنے والے ان بچوں میں سے بیشتر بچے بچ نہیں سکے اور شہید ہوگئے، تاہم ان میں سے کچھ بچوں کی زندگیوں کو بچالیا گیا۔ ایک ڈاکٹر نے ایسے 18 بچوں کی نشاندہی کی جنہیں سر یا سینے پر گولی ماری گئی تھی۔ رپورٹس نے یہ ثابت کیا ہے کہ زخم ایسے ہیں جو دور سے نشانہ بازی سے آئے ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کا نشانہ بنانے کے واقعات اتفاقی گولیوں کے تبادلے میں نہیں ہوئے بلکہ یہ جنگی جرائم ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 20 ہزار بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔


































