
فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس” کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان "ابو عبیده” نے غاصب صیہونی آبادکاروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلیوں کے پاس صرف دو آپشن ہیں یا تو وہ سیز فائر کے لئے اپنے سربراہوں کو مجبور کریں یا پھر اپنے فوجیوں کے مزید تابوتوں کا انتظار کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن صیہونی دشمن کو خان یونس اور جبالیہ میں پہنچنے والا نقصان، ہماری اہم کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ صیہونی رژیم کے ساتھ مقبوضہ سرزمین کے ہر ایک حصے پر ایسا ہی ہونے والا ہے جیسے آج خان یونس اور جبالیہ میں ہوا۔ ابو عبیدہ کا بیان اس وقت سامنے آیا جب خان یونس میں ایک بم دھماکے میں متعدد صیہونی فوجی مارے گئے۔ جس کے بعد اسرائیلی فوج کے ترجمان نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ خان یونس کے محلے بنی سھیلا کی ایک رہائشی عمارت میں نصب شدہ بم کے پھٹنے کے نتیجے میں 4 صیہونی فوجی ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں 33 سالہ "چین گروس” اور 19 سالہ "یوآف ریفر” شامل ہیں جب دیگر دو صیہونی فوجیوں کی تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صیہونی رژیم نے غزہ کی پٹی میں اپنی حالیہ زمینی کارروائی کو "جیڈعون رتھ” کا نام دیا۔ جس کے جواب میں القسام بریگیڈ نے صہیونیوں کے خلاف اپنی سلسلہ وار کارروائیوں کا نام "داؤد کا پتھر” رکھا۔ جیڈعون یہودی تنخ اور بائبل کے عہد نامہ قدیم کا ایک کردار ہے جو بنی اسرائیل کے ججوں میں سے ایک تھا۔ اس کا نام سب سے پہلے "صحیفہ یوشع” اور قاضیوں کی کتاب میں ذکر ہوا جہاں اسے ایک بہادر و وفادار رہنماء کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسرائیل کی فوجی کارروائی میں جیڈعون کا نام استعمال کرنا اپنے فوجی اقدامات کو مذہبی جواز دینے اور انہیں افسانوی رنگ دینے کی کوشش ہے۔ یہ انتخاب طاقتور اکثریت کے مقابلے میں مؤمن اقلیت کی فتح اور فوجی طاقت پر ایمان و حکمت عملی کی برتری جیسے تصورات کو ذہن میں لاتا ہے۔ فلسطینی مزاحمت کا "داود کا پتھر” نام رکھنا بھی اسی تناظر میں ہے جو صہیونیوں پر ایک طنز ہے۔ ابوعبیدہ کا یہ پیغام صیہونی رژیم کے جیڈعون رتھ کا جواب سمجھا جا سکتا ہے جس میں مومن گروہ کی ظالم گروہ پر فتح کا ذکر ہے۔


































