
مقبوضہصیہونی فوجی تجزیہ کار یوآو زیتون نے اپنے ایک مقالے میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم غزہ جنگ میں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اس نے کہا کہ حماس تنظیم کئی سال پہلے سے خود کو ایسی جنگ کیلئے پوری طرح تیار کر چکی تھی اور اسرائیلی فوج حماس کی فوجی طاقت اور ہتھیاروں سے چونک گئی ہے۔ یہ فوجی تجزیہ کار عبری اخبار یدیعوت آحارنوٹ میں شائع ہونے والے اپنے مقالے میں مزید لکھتا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو غزہ جنگ ختم کرنے کیلئے دسمبر کے آخر تک ڈیڈ لائن دے دی ہے اور اگر جنگ کی صورتحال یونہی باقی رہی اور اسرائیل کوئی نئی اور اہم کامیابی حاصل نہ کر پایا تو وہ جنگ ختم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ یوآو زیتون لکھتا ہے کہ اسرائیلی حکام موسم گرما 2007ء سے حماس کو نابود کرنے کی خاطر فوجی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حماس نے گذشتہ چند عشروں سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج روز بروز حماس کی فوجی طاقت سے دنگ ہوتی جا رہی ہے۔ حماس ایک حقیقی فوج ہے جو تل ابیب سے بہت کم فاصلے پر تشکیل دی گئی ہے۔
صیہونی فوجی تجزیہ کار یوآو زیتون اپنے مقالے میں لکھتا ہے کہ حماس مختلف قسم کی مشین گنوں، کلاشنکوف، اسنائپر گن ڈریگونوف، جدید مواصلاتی آلات، دھماکہ خیز مواد اور مختلف قسم کے دیگر بے شمار ہتھیاروں سے لیس ہے جس کی وجہ سے وہ اعلی فوجی صلاحیتوں کی مالک ہے۔ یہ صیہونی تجزیہ کار غزہ کے شمال میں صیہونی جارحیت کے بارے میں لکھتا ہے کہ بیت حانون میں شدید جھڑپوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے میں دشمن کو شکست دینے کیلئے طویل عرصہ درکار ہو گا جبکہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں حماس کی ماہر ترین فورسز تعینات نہیں ہیں۔ صیہونی تجزیہ کار یوآو زیتون نے غزہ شہر کے مشرقی حصے الشجاعیہ میں اسرائیلی فوج کی گولانی بریگیڈ کے ایک اعلی سطحی کمانڈر کے بقول لکھا کہ حماس نے اپنی ایک ماہر ترین اور تجربہ کار ترین بٹالین اس علاقے میں تعینات کر رکھی ہے اور اس گروہ کے مسلح افراد جو انہی علاقوں میں پیدا ہوئے ہیں اور بڑے ہوئے ہیں ہر گز اپنا علاقہ چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور ہمارے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔


































