
بغداد : عراق کے ناراض سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کے سیاسی مذاکرات پر آمادگی کے بعد سیاسی بحران ختم ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ صدر تحریک کے سربراہ نے کئی بار مخالفت کے بعد آخر کار سیاسی جماعتوں کے سہ رکنی وفد سے ملاقات کی حامی بھر لی ہے۔ جس میں الفتح الائنس اور کردستان ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ اور کردستان ریجن کے صدر شامل ہوں گے۔ تین رکنی وفد مقتدی صدر کو حکومت کی تشکیل میں حصہ لینے پر آمادہ کرنے کی غرض سے نجف اشرف جائے گا۔ عراق میں 11 ماہ پہلے الیکشن ہوئے تھے لیکن ابھی تک پارلیمانی دھڑے نئی حکومت کی تشکیل پر متفق نہیں ہوسکے ہیں۔ الفتح الائنس کے سربراہ ہادی العامری نے کہا ہے کہ پہلے نئی حکومت تشکیل دی جائے، انتخابی قوانین اور الیکشن کمیشن کے ڈھانچے میں ضروری اصلاحات انجام پائیں، اس کے بعد سیاسی جماعتیں تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کرائےجائیں۔ انہوں نے کوآرڈی نیشن کمیٹی کی جانب سے عبوری وزیراعظم پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصطفی الکاظمی کی سربراہی میں قبل از وقت انتخابات ناممکن ہیں۔اس سے پہلے الفتح الائنس کے ایک اور رہنما سعد السعدی نے بھی کہا تھا کہ مصطفی الکاظمی حکومت کی باقیات عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے اور یہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔


































