
تہران: امریکی حملے کے بعد ایران نے جوابی اقدامات کرنے شروع کردیے ہیں اور پارلیمنٹ نے آبنائے ہُرمز بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایک سینئر ایرانی قانون ساز اسماعیل کوثری نے بتایا کہ قانون ساز نے آبنائے ہرمز کی بندش پر اتفاق کرلیا ہے۔ پارلیمنٹ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کو بند کر دینا چاہیے، لیکن حتمی فیصلہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے پاس ہے۔
آبنائے ہرمز خیلج میں واقع صرف تینتیس کلو میٹر چوڑا تنگ راستہ ہے جہاں سے دنیا کی یومیہ تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی خبر ملتے ہی امریکا کی چیخیں نکل گئیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کو ایک اور خوفناک غلطی قرار دے دیا ہے جس کا مطلب ایران کے لیے معاشی خود کشی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس اس طرح کے اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے آپشنز موجود ہیں لیکن دوسرے ممالک کو بھی اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے چین سے کہاکہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔


































