Wed Oct 14, 2026

حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار

روزانہ کی خبریں

ایران کے پاس اب بھی جدید میزائل موجود ہیں، اسرائیلی انٹیلی جنس

تل ابیب : اسرائیلی انٹیلی جنس نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی جدید میزائل موجود ہیں۔ آئرن ڈوم پچھلے 24 گھنٹوں میں داغے گئے صرف 65 فیصد میزائلوں کو روک سکا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں میں سے صرف 65 فیصد کو اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی نظام نے روکا، جبکہ ایک روز قبل یہ شرح تقریباً 90 فیصد تھی۔ سابق اعلیٰ سطحی اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی انتہائی جدید میزائل موجود ہیں اور وہ ان کا استعمال کر رہا ہے۔ انٹیلی جنس اہلکار نے کہا کہ ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں داغے گئے تیز رفتار میزائلوں کی وجہ سے اسرائیل کو ان کے ہدف تک پہنچنے سے پہلے تیاری کا کم وقت مل رہا ہے۔ انٹیلی جنس اہلکار کا کہنا تھا کہ کل تک ہمیں میزائل گرنے سے تقریباً 10 سے 11 منٹ پہلے ابتدائی وارننگ ملتی تھی، لیکن آج صبح یہ وقت صرف چھ یا سات منٹ تھا، اس کا مطلب ہے کہ یہ میزائل پچھلے میزائلوں کے مقابلے میں شاید کہیں زیادہ تیز رفتار تھے۔ اس نے مزید کہا کہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایرانیوں کے پاس حملے کے آخری مرحلے کے لیے ایک نیویگیشن سسٹم موجود ہے جو ان کی مدد کرتا ہے کہ وہ انتہائی درستگی کے ساتھ ان اہداف کو نشانہ بنائیں جنہیں وہ چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular