
تہران : ایران نے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائلوں کی بارش کردی۔ حملوں کے نتیجے میں دس اسرائیلی ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ ایران نے مسلسل دوسرے دن اسرائیل کیخلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے تہران۔ شیراز اور دوسرے مقامات سے درجنوں میزائل فائر کئے، جبکہ متعدد ڈرونز بھی اسرائیل کی جانب بھیجے گئے۔
ایران نے پہلی بار ہائیپر سونک میزائل خیبر شکن بھی استعمال کیا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ حیفہ میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ آئل ریفائنری میں شعلے بھڑک اٹھے ایرانی حملوں میں جنگی طیاروں کو تیل فراہم کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،اسرائیل کا توانائی ڈھانچہ بھی میزائلوں اور ڈرونز سے ہدف بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اسرائیل نہیں رکا تو مزید شدت سے حملہ کریں گے۔
اس سے قبل اسرائیل نے ایران کی توانائی کی صنعت اور وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔ تہران میں شاہران آئل ڈپو پر حملے میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیل نے ایران کے شہر تہران۔ بندر عباس۔ شیراز۔ خرم آباد۔ تبریز سمیت دیگر شہروں پر شدید حملے کئے۔
وزارتِ دفاع کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت۔ تحقیقی و دفاعی ادارے۔ تیل کی تنصیبات اور دوسرے مقامات کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے مقدس شہر مشہد پر بھی حملہ کیا جسے ناکام بنادیا گیا۔ تبریز میں تیس ایرانی فوجیوں کی شہادت کی اطلاع ہے۔ تہران پر حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کے اعلیٰ مشیر علی شمخانی بھی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب سمیت ایرانی افواج کے 20 سے زائد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے دنیا کی ایک بڑی پارس گیس فیلڈ میں پیداوار کو جزوی طور پر معطل کر دیا ہے۔


































