
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کہا کہ ایران اپنی پالیسی اور فیصلوں میں کسی کا تابع اور حکم کا محتاج نہیں۔ جوہری معاملے میں امریکہ کا منصوبہ مکمل طور پر اس سوچ کے خلاف ہے، ایرانی یورنیم کی افزودگی بند نہیں کرے گا۔ بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی 36 ویں برسی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ مزاحمت کا مطلب یہ ہے کہ انسان بڑی طاقتوں کی مرضی کے سامنے سر نہ جھکائے۔ قومی خودمختاری کا ایک اور اہم اصول ملک کی دفاعی طاقت کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے برسوں کی کوششوں سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ جوہری ٹیکنالوجی سے صرف توانائی ہی نہیں بلکہ اس سے متعدد شعبے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ یورینیم کی افزودگی جوہری پروگرام کا کلیدی عنصر ہے اور دشمنوں نے اسی نکتے کو نشانہ بنایا ہے۔ ماضی میں 20 فیصد ایندھن کے لیے امریکہ پر انحصار کا تجربہ کیا گیا اور اس کا ناقابل اعتماد ہونا ثابت ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ٹیکنالوجی نہ ہو، تاکہ ایران کو امریکہ کی ضرورت رہے۔ ہمارا جواب بالکل واضح ہے کہ امریکہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ آپ کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے کہ ایران کو افزودگی کا حق ہے یا نہیں؟ آپ کی حیثیت ہی کیا ہے؟۔
ولی امر مسلمین نے صیہونی مظالم پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت کے مظالم، خاص طور پر غزہ میں ناقابلِ یقین حد تک وحشیانہ ہیں۔ نتن یاہو کس قدر پست، حقیر اور شریر ہے! امریکہ اس ظلم میں شریک ہے اور اسے خطے سے نکال باہر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسلامی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آج فلسطین کے مسئلے پر اسلامی حکومتوں کی بڑی ذمہ داری ہے۔ آج مصلحت پسندی، خاموشی یا غیر جانبداری کا دن نہیں ہے۔ اگر کوئی حکومت کسی بھی صورت میں صیہونی حکومت کی حمایت کرے، تو وہ یقین رکھے کہ یہ اس کے ماتھے پر ہمیشہ کے لیے ایک ننگ ہوگا۔ خطے کی حکومتیں جان لیں کہ صیہونی حکومت پر تکیہ کرکے کسی بھی حکومت کو تحفظ حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ حکومت خدا کے حکم سے زوال کے دہانے پر ہے اور ان شاء اللہ جلد ہی فنا ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا سیاسی نظام جو الحمدللہ آج طاقتور ہو رہا ہے، ایک عظیم انقلاب کا ثمر ہے۔ اس انقلاب کے بانی وہ عظیم رہنما ہیں جن کی وفات کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن ان کی موجودگی آج بھی محسوس کی جاتی ہے اور ان کا انقلابی اثر دنیا پر نمایاں ہے۔ دنیا میں امریکہ کی گرتی ہوئی ساکھ اور صیہونیت سے نفرت دراصل امام خمینیؒ کے انقلاب کی مرہون منت ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ آج مغربی دنیا میں ایک رجحان پیدا ہوچکا ہے کہ لوگ مغربی اقدار سے بیزار ہو رہے ہیں۔ امام خمینیؒ نے ایسا انقلاب برپا کیا جس نے مغرب کو حیران کر دیا۔ وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ایک ایسا روحانی شخص بغیر کسی اسلحے یا مالی وسائل کے پوری قوم کو میدان میں لے آئے گا۔ انہیں یہ امید نہ تھی کہ یہی انقلاب اور یہی امام امریکہ اور صہیونیوں کو جو برسوں سے ایران پر مکمل تسلط رکھتے تھے، جڑ سے اکھاڑ کر باہر نکال دیں گے۔


































