
تہران: ایران، پاکستان اور عراق کے وزرائے داخلہ نے مشترکہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ لاکھوں زائرین کی خدمت، ویزا نظم و ضبط اور سیکیورٹی تعاون کیلئے ایک مربوط ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزرائے داخلہ کے سہ فریقی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ زائرین کے سفر سے متعلق نقل و حمل، سیکیورٹی اور صحت کے شعبوں میں سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے سہ فریقی اجلاس کے نتائج بلاشبہ نہایت مثبت، تعمیری اور ہم آہنگ تھے اور ان کا اربعین کے عظیم اور عالمی اجتماع کے شایان شان انعقاد میں اہم کردار ہوگا۔ تینوں ممالک اس سال اربعین کو پہلے سے زیادہ شایان شان طریقے سے منعقد کرانے کے لیے پرعزم ہیں۔
عراقی وزیرداخلہ عبدالامیر الشمری نے کہا کہ اربعین کے لیے دنیا کے مختلف ممالک سے پچاس لاکھ غیر عراقی زائرین عراق میں داخل ہوتے ہیں؛ یہ ایک انتہائی قابل توجہ عدد ہے جو وسیع سیکیورٹی، خوراک، رہائش اور آمد و رفت کے منظم انتظامات کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس عظیم انسانی اجتماع کی میزبانی کے لیے اپنی خدمات کا آغاز کر دیا ہے اور اسی مقصد کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ زیارت اربعین سے متعلق امور کی پیروی کے لیے عراق اور ایران دونوں کی طرف سے نمائندے مقرر کیے جا چکے ہیں۔
پاکستانی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک اہم موضوع یہ تھا کہ تینوں ممالک زیارت اربعین سے متعلق بہتر ہم آہنگی کے لیے ایک مشترکہ سہ فریقی ورکنگ گروپ تشکیل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں عراقی برادران کی جانب سے جو تحفظات اور موضوعات پیش کیے گئے، انہیں سنجیدگی سے سنا گیا ہے، اور ہم ان پر مکمل توجہ دیں گے۔ پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم ہر سال دیکھتے ہیں کہ زیارت اربعین ہر سال زیادہ منظم اور کامیاب انداز میں منعقد ہوتی ہے۔ میں ایک بار پھر حکومت عراق کا اس شاندار میزبانی پر دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔


































