
سمر قند: ایران بھی شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل رُکن بن گیا۔اور اس نے باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کردئےہیں۔ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ مکمل رکنیت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ رکنیت انرجی سے لے کر اقتصادیات تک تجارت کے متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ایران نے 2005 کے اجلاس میں بحیثیت مبصر ملک شرکت کی اور ستمبر 2021 میں ایران کی مکمل رکنیت کا مرحلہ شروع کروا دیا گیا۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اس موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے لئے یورو کی طرز پر ایک کرنسی کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس سے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے اور باہمی طور پر مفید مالیاتی پالیسیوں پر اتفاق رائے میں سہولت ہو گی۔


































