
اسلام آباد: افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کالعدم ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کے بجائے پاکستانی حکام کو ان سے بات چیت کا مشورہ دیدیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور پاکستانی حکام سے درخواست ہے کہ مل بیٹھ کر بات چیت کریں، پاکستان اور افغانستان کو مسائل کے حل کے لیے لچک دکھا کر روشن مستقبل کے جانب بڑھنا ہو گا۔ ہم کسی صورت پاکستان کی سرزمین پر خون خرابہ اور بے امنی نہیں چاہتے۔افغانستان کی طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی اور داعش کے خاتمے کے لیے اپنی ذمے داریاں ادا کیں۔ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 20 سال میں دہشت گردی سے 80 ہزار جانوں کا نقصان ہوا، اس دورے میں بھی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کلچرل اور مذہبی بنیادوں پر بھی ہیں، ٹریڈ روٹس بند ہونے سے عام عوام کے لیے روزگار کے بہت سے مواقع ختم ہوجاتے ہیں امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ کوئی افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کر سکتا نہ ہم اجازت دیں گے، افغانستان میں دہشت گردی کا ایک پروپیگنڈا ہے، ہم اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، دہشت گردی کی سرگرمیوں کا پروپیگنڈا اتنا بڑھ گیا ہے کہ عوام بھی اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ طالبان نے کبھی نہیں کہا کہ خواتین کی تعلیم غیر اسلامی ہے یا اس پر پابندی ہے، خواتین کی تعلیم کے بارے میں صرف اتنا کہا گیا کہ اگلے احکامات تک تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔


































