
نئی دہلی : بھارتی ریاست مدھیا پردیش میں دو قبائلیوں کو ہجوم نے گائے ذبح کرنے کے شبہے میں تشدد کرکے قتل کر دیا ہے۔ ضلع سیونی میں دو درجن کے قریب مشتعل افراد نے گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر دو قبائلیوں کو تشدد کرکے قتل کردیا۔پولیس کے مطابق 20 افراد ان قبائلیوں کے گھروں پر گئے اور ان پر گاؤ کشی کا الزام لگایا جس کے بعد ان پر بیہمانہ تشدد کیا گیا۔ تشدد سے دونوں افراد شدید زخمی ہوگئے اور اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ دیے۔
کانگریس کے رکن اسمبلی ارجن سنگھ کاکوڈیا نے ناگپور جبل پور شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔سیونی ضلع کے پولیس آفیسر اور دوسرے حکام نے قبائلیوں کے گھروں کا دورہ کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں 20 افرد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں سے چھ افرد کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس ایس کے ماراوی کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر 15 سے 20 افراد ان قبائلی افراد کے گھروں پر گئے اور ان پر گائے ذبح کرنے کا الزام لگایا۔
’ہجوم کے تشدد سے دونوں شدید زخمی ہوگئے اور ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ دیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس کی ٹیم ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس نے اب تک تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق قبائلیوں کے گھر سے 12 کلو گوشت ملا ہے۔ مقدمے کے مدعی برجیس باٹی، جو کہ خود بھی حملے میں زخمی ہوئے ہیں، کا کہنا ہے کہ ہجوم نے مرنے والے دونوں افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ کانگریس پارٹی نے واقعے کی فوری تحقیقات کرنے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مدھیا پردیش کانگریس کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ کمال ناتھ نے حکومت سے ملزمان کےخلاف فوری کارروائی کرنے اور واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مرنے والے افراد کے خاندانوں کی ہر ممکن مدد کرنے اور زخمی ہونے والے فرد کی سرکاری خرچ پر علاج کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔


































