
شکاگو : عالمی شہرت یافتہ انسانی حقوق کی تنظیم جینو سائڈ واچ کےبانی ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے کہا ہے کہ بھارت بیس کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری کر رہا ہے ۔ڈاکٹر اسٹینٹن نے یہ انکشاف شکاگو میں اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا کے سالانہ کنونشن میں انڈین امریکن مسلم کونسل کے زیراہتمام پینل مباحثہ سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے متنازعہ قانون شہریت ، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اورانتہا پسند ہندوئوں کی طرف سے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ذریعے قتل اور دیگر جرائم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کئے جانے کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے تیاری کے تمام مراحل مکمل کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں مسلمانوں پر جاری مظالم کی عکاسی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی سے ہوتی ہے جہاں مسلمانوں کی املاک کو ضبط یا تباہ کرکے بے گھر کردیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ آر ایس ایس بجرنگ دل کے کیمپ بھی چلاتی ہے، جہاں نوجوان ہندو لڑکوں کو ہندوتوا کا نظریہ سکھایا جاتا ہے اور مسلمانوں سے نفرت اور خوف کی کھلے عام وکالت کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کیمپوں کو بیرون ملک ہندوستانیوں سے خاص طور پر انڈیا ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ کے ذریعے بڑی مالی امداد ملتی ہے۔


































