
بریلی : بھارت کے شہر رائے بریلی میں پولیس آئی لَو محمد (ص) ریلی پر ٹوٹ پڑی۔ پتھراؤ اور پولیس تشدد سے دس افراد زخمی اور 12 گرفتار کرلئے گئے۔
بریلی میں نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں افراد کانپور میں آئی لو یو محمدﷺ بینر لگانے پر مسلمانوں پر مقدمے قائم کئے جانے اور ان کی گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لئے اسلامیہ گراؤنڈ کے قریب جمع ہوئے تھے۔ مگر مظاہرین پر پتھر بازی کا الزام لگا کر پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسادیں اور شیلنگ کی۔ ہنگامہ آرائی میں دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے بارہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ بریلی بھر میں متعدد مقامات پر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ پولیس نے علاقے میں پرامن فضا قائم رکھنے کیلئے فلیگ مارچ اور دیگر اقدامات کیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے زیادتی کی ہے۔
دریں اثنا طاقت کے نشے میں چور اترپردیش کے ہندوتوا وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے مظاہرہ منعقد کرنے والے اور بریلی کے معروف عالم مولانا توقیر رضا خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ بریلی میں ایک مولانا بھول گئے کہ ریاست میں کون اقتدار میں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی مرضی سے امن و امان کی صورتحال کو بگاڑ سکتے ہیں، لیکن ہم نے واضح کیا کہ کوئی ناکہ بندی یا کرفیو نہیں ہوگا۔ ہم نے جو سبق سکھایا ہے وہ آنے والی نسلوں کو فساد بھڑکانے سے پہلے دو بار سوچنے پر مجبور کرے گا۔ ریاست میں فسادات یا کرفیو کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔


































