
نئی دہلی : بھارت میں لوک سبھا الیکشن میں حکمراں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگ گیا۔ جبکہ کانگریس کو نئی سیاسی زندگی مل گئی۔ لوک سبھا کی پانچ سو تینتالیس نشستوں پر سات مراحل پر مشتمل الیکشن کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ انتخابی نتائج حکمراں بی جے پی کیلئے کسی اپ سیٹ سے کم نہیں۔ اس کا چار سو نشستیں جیتنے کا خواب چکنا چورہوگیا۔ تاہم سادہ اکثریت سے نریندر مودی کی تاریخی طور پر تیسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے تمام ایگزٹ پولز بھی غلط ثابت ہوئے ہیں۔ ہندوتوا بی جے پی اور اس کی حامی جماعتوں کے اتحاد کو تین سو کے قریب نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ جبکہ کانگریس اور اتحادی جماعتوں کا بلاک دو سو تیس سے زائد نشستوں پر آگے ہے۔ علاقائی جماعتوں کی کارکردی بھی بہت نمایاں رہی۔ ممتا بنیرجی کی تریمنول کانگریس مغربی بنگال میں کلین سوئپ کے قریب ہے۔ بہار میں جنتا دل اور سماج وادی پارٹی نے بھی اپنی نشستوں کی تعداد بڑھالی ہے۔ انتخابی نتائج سے اسٹاک مارکیٹ کو بھی شدید جھٹکا لگا ہے اور کریش کرگئی۔ بی ایس ای انڈیکس میں چار ہزار 378 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔


































