
نئی دہلی : ہندوستان کی ریاست ہماچل پردیش کی ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بھارتی قانون میں صرف طلاق ثلاثہ یعنی ایک ساتھ تین طلاقوں پر پابندی ہے ۔ طلاق احسن یا طلاق حسن پر نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں وضاحت کی کہ طلاق ثلاثہ کو ممنوع قرار دینے والا قانون 2019 میں منظور کیا گیا قانون طلاق حسن جیسے کسی دوسرے طریقے کے بارے میں نہیں ہے جس کے مطابق عدت کے دوران رجوع کرنے کی اجازت ہے۔ یاد رہے 2019 میں منظور کئے گئے قانون کے تحت مسلمان مردوں کے ایک سانس میں تین طلاقیں دینے کو قابل سزا جرم قرار دے کر اس حرکت کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ بات ایک مقدمے کی سماعت میں کہی جس میں ایک شخص کی سابقہ بیوی نے شوہر پر ایک سانس میں تین طلاقیں دینے اور مسلم ویمن ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروادی تھی۔ شوہر نے ایف آئی آر خارج کروانے کے لئے دی گئی اپنی درخواست میں التجا کی کہ اس نے طلاق ثلاثہ نہیں بلکہ طلاق حسن کا طریقہ اختیار کیا تھا۔


































