
نئی دہلی : ہندوستانی ریاست مدھیہ پردیش میں غریب مسلمانوں کو لالچ اور دھمکیاں دیکر ہندو بنانے کی مہم میں تیزی آگئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں مذہب کی تبدیلی کا تازہ واقعہ اندور میں پیش آیا ہے جہاں چودہ خواتین سمیت تیس مسلمانوں کے گروپ نے ہندو مذہب اختیار کر لیا۔ مقامی ہندوتوا تنظیم ساجھا سنسکرتی منچ کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں نے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ 2021 کی قانونی دفعات کے تحت رضاکارانہ طور پر ہندو مذہب اپنایا ہے۔ تنظیم کے صدر سام پاوری نے بتایا کہ اندور اور مغربی مدھیہ پردیش کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے آباؤ اجداد اصل میں ہندو تھے۔ اور انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو مذہب کی تبدیلی کا حلف نامہ جمع کرادیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ابھینے وشواکرما نے بتایا کہ اٹھائیس افراد کے کھجرانہ گنیش مندر میں رضاکارانہ طور پر تبدیلی مذہب کی رسم میں حصہ لینے کی اطلاع ملی تھی ۔ ہمیں ابھی تک ایسی کوئی شکایت نہیں ملی ہے کہ ان افراد نے کسی دباؤ،اثرورسوخ یا لالچ کے تحت اپنا مذہب تبدیل کیا ہے۔ کوئی شکایت موصول ہو تو مناسب قانونی اقدامات کئے جائیں گے۔


































