Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

ریاست بچانا ہے تو نیتن یاہو اپنی سخت گیرپالیسیاں تبدیل کریں، جوبائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم کو خبردار کردیا ہے کہ غزہ پر بلا تفریق بمباری کے باعث اسرائیل اپنی حمایت کھونے لگا ہے۔اپنی انتخابی مہم کیلئے چندہ جمع کرنے کی ایک تقریب کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنی سخت گیر حکومت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے بیان میں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قدامت پرست سیاست دانوں خاص طور پر اسرائیلی نیشنل سکیورٹی کے وزیر اتمار بن گویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ اسرائیلی حکومت اسرائیل کی تاریخ کی سب سے قدامت پرست حکومت ہے۔ نیتن یاہو کو اپنی حکومت میں تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ حکومت اسرائیل کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ ہم خطے کو متحد کر سکیں اور ایسا کرنا بھی چاہتے ہیں لیکن نیتن یاہو کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اس موقع کو مستحکم کرنے کیلئے اسے بھی کچھ اقدامات کرنا ہوں گے اور وہ عالمی دباؤ کے بعد مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار نہیں کرسکتے کیونکہ یہ بہت مشکل ہوگا۔ جو بائیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اسرائیلی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو دو ریاستی حل نہیں چاہتی۔

مزید پڑھیے

Most Popular