
A general view of the Pakistan’s Supreme Court is pictured in Islamabad on April 6, 2022. – Pakistan President Arif Alvi told the country’s election commission on April 6 to fix a date for a new national ballot, as the supreme court adjourned a hearing into the legality of political manoeuvres that led to parliament being dissolved. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)
اسلام آباد : سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے نو مئی کے مخصوص ملزمان کے ملٹری ٹرائل پرسوالات اٹھادئے۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دوسرے دن بھی دلائل جاری رکھے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں ملزمان کو فوجی تحویل میں لیاگیا تو بنیادی حقوق معطل نہیں تھے۔ نہ ہی ایمرجنسی نافذ تھی۔ کون سا کیس ملٹری کورٹس میں چلے گا اور کون سا نہیں چلے گا۔ یہ تفریق کیسے کی جاتی ہے؟.
جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ نو مئی واقعات میں 103 ملزمان کے خلاف ملٹری کورٹس میں کیس چلا اور باقی کیسز انسداد دہشت گردی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ملزمان کو فوج کی تحویل میں دینے کا انسداد دہشت گردی عدالتوں کا تفصیلی فیصلہ کدھر ہے؟جسٹس مندوخیل نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت سے ملزم بری ہو رہا ہے، اسے فوجی عدالت سے سزا ہو رہی ہے، کیا فوجی عدالتوں میں کوئی خاص ثبوت فراہم کیا جاتا ہے؟ اچھے تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹر رکھیں تو عدالتوں سے بھی سزائیں ہوں گی۔ جسٹس اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ جی ایچ کیو پر پہلے بھی حملہ ہوا۔ کراچی میں کورین طیارے کو تباہ کیا گیا۔ سابق آرمی چیف کے جہاز کو ہائی جیک کرنےکی کوشش کی گئی۔ ان واقعات میں فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے۔یہ تمام مقدمات کہاں چلائےگئے؟ ۔۔جسٹس حسن اظہرنےسوال کیا کہ کیا 9مئی کا واقعہ دہشت گردی سے زیادہ سنگین جرم ہے؟جوٹرائل فوجی عدالت میں ہو رہا ہے؟۔۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق 2 ڈی کالعدم ہونے سے اب کلبھوشن یادیو جیسے ملک دشمن جاسوس کا کیس ملٹری کورٹس میں چل سکتا ہے۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ملک دشمن جاسوس کا کیس ملٹری کورٹس میں نہیں چل سکتا۔ آئینی بینچ نے نو مئی کے واقعات کے ملزمان کو فوجی عدالت بھیجنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا آرڈر طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔


































