
فوجی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے پاس پن پوائنٹ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل موجود ہیں جو غاصب ریاست میں کسی بھی جگہ کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسرائیلی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنی بری فوج کی کمزوریوں کو لے کر پریشان صیہونی حکومت ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لئے فوج کو بلا واسطہ جنگ میں دھکیلنے سے پرہیز کر رہی ہے، اُسے خوف ہے کہ کہیں وہ جنگ اس کے لئے بدنامی کا باعث نہ بن جائے کیونکہ وہ 2006ء میں حزب اللہ کے ساتھ ہونے ولی جنگ میں اہنی فوجی شکست کو دیکھ چکے ہیں جس کے اثرات آج بھی غاصب فوج میں نظر آتے ہیں۔


































