
نیویارک: فلسطین کانفرنس سے خطاب میں فلسطینی صدر محمود عباس کہا کہ فلسطینی قیادت ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر کاربند ہے، جس کے تحت شفافیت، حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو مضبوط کیا جائے گا اور جنگ کے خاتمے کے ایک سال کے اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔ اسرائیلی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین کی گورننس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اسے ہر صورت اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے سامنے ڈالنا ہوں گے۔ فلسطینی صدر نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں امداد کی ضرورت ہے اور قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مصر اور قطر کی جانب سے جنگ ختم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ فلسطینی صدر نے ساتھ ہی مصر اور اردن کی جانب سے اس بات کو مسترد کیا جانا بھی قابل ستائش قرار دیا کہ ان دونوں ممالک نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کردیا ہے۔


































