
نیویارک: اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے غزہ میں تین ماہ بعد پہنچنے والی امداد کو چائے کے چمچ جتنی امداد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کا ظالمانہ تنازعہ اپنے بدترین مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران انتونیو گوتریس نے کہا کہ ایسی امداد جس کی رسائی تیز، قابل اعتماد، محفوظ اور پائیدار ہو کے بغیر غزہ میں مزید لوگ مر جائیں گے۔ امداد کی برقت ترسیل نہ ہوئی تو اس کے تمام آبادی کے لیے طویل مدتی نتائج تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ضرورتیں بہت زیادہ ہیں اور رکاوٹیں حیران کن ہیں۔ غیر ضروری تاخیر کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ جو سامان ہم تقسیم کرتے ہیں ان پر سخت کوٹہ لگایاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن، پناہ گاہ، کھانا پکانے والی گیس اور پانی صاف کرنے کے سامان سمیت مختلف اہم سپلائیز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔


































