
ریاض : خلیجی عرب ممالک نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کرے۔ ایسی مداخلت پورے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، عمان اور قطر نے پسِ پردہ ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملے پر نظرِ ثانی کی جائے۔ خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی اقدام کی صورت میں آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔ ان ممالک کو اندرونی ردعمل، معاشی نقصانات اور ممکنہ جوابی کارروائی کا بھی خدشہ ہے۔
سعودی حکام نے تہران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی جنگ میں شریک نہیں ہوں گے اور نہ ہی امریکی افواج کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دیں گے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق دونوں وزراء نے علاقائی تازہ ترین پیش رفت اور خطے میں سلامتی و استحکام کی حمایت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔


































