Mon Oct 19, 2026

شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں ایران کا انصار اللہ اور سعودی عرب میں ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

گجرات مسلم کش فسادات، نریندر مودی سپریم کورٹ سے بھی بچ نکلے

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے گجرات مسلم فسادات کیس میں وزیراعظم نریندر مودی کو بری کرنے کا فیصلہ برقراررکھا۔ اور فسادات میں شہید سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی درخواست خارج کردی۔ ذکیہ جعفری کی درخواست میں 2002 کے فسادات کیس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سمیت 59 لوگوں کواسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی طرف سے دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 8 فروری 2012 کو ایک حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں نریندر مودی سمیت 59 لوگوں کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں۔ ذیلی عدالت نے بھی ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پرنریندر مودی اوران کے قریبی ساتھیوں کو کلین چٹ دے دی تھی۔سپریم کورٹ کے تین ججز کے بنچ نے ذکیہ جعفری، تحقیقاتی ٹیم اور دیگر کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد دسمبر 2021 میں کیس میں فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے کیس میں تفتیش کاروں کی طرف سے دائر کی گئی حمتی رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے سنہ 2013 کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ گجرات کے مسلم کش فسادات میں ہندو انتہاپسندوں کے حملوں میں ایک ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیے

Most Popular