Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

بھوک و افلاس پر عالمی رپورٹ جاری، بھارت میں بھوک اور غربت میں مزید اضافہ

اسلام آباد : دنیا میں بھوک و افلاس کی صورتحال کے حوالے سے گلوبل ہنگر انڈیکس 2021 کی رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق انڈیا کا درجہ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے نیچے چلا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 116 ممالک کی فہرست میں انڈیا کا نمبر 94 سے بڑھ کر 101 ہو گیا ہے۔ دنیا میں چین، برازیل اور کویت کے اندر بھوک و افلاس سب سے کم ہے اور ان تینوں ممالک کا درجہ پانچ سے نیچے ہے۔ رپورٹ میں انڈیا کے درجے کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ انڈیکس میں کسی ملک کے اسکور کو چار اعشاریوں کے تحت ناپا جاتا ہے جس میں پانچ برس سے کم بچوں کے اندر غذایت کی کمی، بچوں کا قد نہ بڑھنا اور ان کی اموات شامل ہیں۔ بھارت کے ہمسایہ ممالک پاکستان (92)، بنگلہ دیش (76)، میانمار (71) اور نیپال (76) میں بھی صورتحال بہتر نہیں ہے، لیکن انہوں نے انڈیا کے مقابلے میں اپنے شہریوں کو خوراک کے حوالے سے بہتر سہولیات دی ہیں۔ تاہم انڈیا نے پانچ برس سے کم بچوں کی شرح اموات اور غذایت کی کمی پوری کرنے میں بہتری نہیں دکھائی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھوک کے خلاف کی جانے والی کوششیں خطرناک حد تک کم ہوئی ہیں۔ جی ایچ آئی نے کہا ہے کہ خاص طور پر 47 ممالک 2030 تک بھوک کا درجہ کم کرنے میں ناکام رہیں گے۔ دنیا کے کئی ممالک میں جاری کشمکش، موسمیاتی تبدیلیوں، کورونا وائرس اور معاشی و صحت کے مسائل کی وجہ سے فوڈ سیکیورٹی کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اچھی نیت اور بڑے مقاصد کے باوجود 2021 میں بھوک کے حوالے سے مثبت سوچ رکھنا مشکل ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular