
اسلام آباد : دنیا میں بھوک و افلاس کی صورتحال کے حوالے سے گلوبل ہنگر انڈیکس 2021 کی رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق انڈیا کا درجہ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے نیچے چلا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 116 ممالک کی فہرست میں انڈیا کا نمبر 94 سے بڑھ کر 101 ہو گیا ہے۔ دنیا میں چین، برازیل اور کویت کے اندر بھوک و افلاس سب سے کم ہے اور ان تینوں ممالک کا درجہ پانچ سے نیچے ہے۔ رپورٹ میں انڈیا کے درجے کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ انڈیکس میں کسی ملک کے اسکور کو چار اعشاریوں کے تحت ناپا جاتا ہے جس میں پانچ برس سے کم بچوں کے اندر غذایت کی کمی، بچوں کا قد نہ بڑھنا اور ان کی اموات شامل ہیں۔ بھارت کے ہمسایہ ممالک پاکستان (92)، بنگلہ دیش (76)، میانمار (71) اور نیپال (76) میں بھی صورتحال بہتر نہیں ہے، لیکن انہوں نے انڈیا کے مقابلے میں اپنے شہریوں کو خوراک کے حوالے سے بہتر سہولیات دی ہیں۔ تاہم انڈیا نے پانچ برس سے کم بچوں کی شرح اموات اور غذایت کی کمی پوری کرنے میں بہتری نہیں دکھائی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھوک کے خلاف کی جانے والی کوششیں خطرناک حد تک کم ہوئی ہیں۔ جی ایچ آئی نے کہا ہے کہ خاص طور پر 47 ممالک 2030 تک بھوک کا درجہ کم کرنے میں ناکام رہیں گے۔ دنیا کے کئی ممالک میں جاری کشمکش، موسمیاتی تبدیلیوں، کورونا وائرس اور معاشی و صحت کے مسائل کی وجہ سے فوڈ سیکیورٹی کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اچھی نیت اور بڑے مقاصد کے باوجود 2021 میں بھوک کے حوالے سے مثبت سوچ رکھنا مشکل ہے۔


































