
جنیوا : اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کا کہنا ہے کہ انیس مئی کے بعد سے صرف پانچ ہزار چھ سو ٹن آٹا غزہ لے جانے کی اجازت دی گئی۔ جو ضرورت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اوچا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں جو آٹا لے جایا گیا وہ بھی بیشتر متاثرین تک نہیں پہنچ سکا اور اسے بعض مسلح گروہوں یا بھوکے متاثرین نے لوٹ لیا۔ بیان میں کہا گیاہے کہ غزہ میں ہر گھر کو اس کی ضرورت کا آٹا فراہم کرنے کے لئے آٹھ سے دس ہزار ٹن آٹا یومیہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
اوچا کے مطابق نو جون تک دو لاکھ اٹھاون ہزار کھانے تیار کئے گئے جو باسٹھ کچن کے ذریعے پہنچائے گئے، جو کہ اپریل کے آخر میں فراہم کیے جانے والے کھانوں کی تعداد کے مقابلے میں 76 فیصد کم ہیں۔ بیان میں کہا گیاہے کہ مسلسل خوراک کی فراہمی کی کمی نے آٹے کی قیمتوں کو بے مثال سطح تک بڑھتے دیکھا گیا ہے.


































