
Displaced people’s tents erected along the waterfront in Gaza City are pictured near the rubble of destroyed buildings on September 2, 2025. Israel intensified its military build-up on September 2 as reservists began responding to call-up orders ahead of a planned offensive on Gaza City, despite mounting pressure at home and abroad to end the nearly two-year campaign in the Palestinian territory. (Photo by Eyad BABA / AFP) (Photo by EYAD BABA/AFP via Getty Images)
دوحہ: حماس نے غزہ پر کنٹرول اور اسے سیاحتی مرکز بنانے کے امریکی منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہےکہ غزہ برائے فروخت نہیں ہے۔ حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن باسم نعیم نے کہا غزہ صرف نقشے پر ایک شہر یا بھولا ہوا جغرافیہ نہیں ہے، بلکہ عظیم فلسطینی وطن کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے رہائشیوں کو نکالنے اور علاقے کو اقتصادی اور سیاحتی زون میں تبدیل کرنے کے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ حماس کے ایک اور عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس ان تمام منصوبوں کومسترد کرتی ہے جو ہمارے لوگوں کو بے گھر کرتے ہیں اور ہماری زمین پر قابیضن کو مسلط کرتے ہیں۔ یہ فضول اور غیر منصفانہ منصوبے ہیں۔


































