
جنیوا : عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ غزہ بدترین قحط کی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق غزہ میں بہت سے لوگ بیماری اور اعضاء کی خرابی کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ طویل بھوک نے ان کے نازک جسم کو پہلے ہی کمزور کردیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیاہے کہ صحت کا نظام ضروری ادویات، ایندھن اور رسد کی کمی کی وجہ سے معذور ہو گیا ہے۔ رضاکار اور طبی کارکن بھی بھوک کا شکار ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ بھوک سے مرنا سست اور تکلیف دہ ہے۔ فوری علاج کے بغیر، شدید غذائی قلت کا شکار بچے زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس تباہی کو پلٹانے میں وسیع وقت اور وسائل درکار ہوں گے۔ غذائیت کے شکار افراد کی صحت یابی کے لیے ٹارگٹڈ طبی مداخلت، مناسب علاج معالجہ اور مخصوص سپلیمنٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام دستیاب چینلز کے ذریعے محفوظ اور غیر محدود داخلے اور امداد کی تقسیم کی اجازت دے۔


































