
غزہ: عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں مکمل حقیقی تباہی سے پہلے 24 گھنٹے کا پانی اور ایندھن باقی رہ گیاہے۔ جان بچانے کی ادویات، جراحی اور سرجری کی طبی اشیا ختم ہونے کے قریب ہیں۔ ناکہ بندی سے غزہ میں انسانی بحران شدید ہو گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے غزہ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال پر اپنی تازہ ترین وارننگ جاری کی ہے۔ وارننگ میں کہا گیا ہے کہ حقیقی تباہی کے آنے سے پہلے صرف 24 گھنٹے پانی، بجلی اور ایندھن بچا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیلتھ ایجنسی کے ریجنل ڈائریکٹر احمد المندھاری نےکہا کہ بمباری سے تباہ اور محصور علاقے میں امدادی قافلے آنے کی اجازت دی جانی چاہیے جو اس وقت مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امداد نہیں پہنچتی ہے تو ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے لیے موت کے سرٹیفکیٹ تیار کرنے ہوں گے۔ ادھر برطانیہ میں قائم طبی امداد برائے فلسطینی گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں کو طبی سامان کی تباہ کن کمی کا سامنا ہے۔ جان بچانے کی ادویات، جراحی اور سرجری کی طبی اشیا ختم ہونے کے قریب ہیں۔ خون کی بھی انتہائی کمی ہے۔ رفح کراسنگ نہ کھلنے سے امدادی قافلے غزہ میں داخل نہ ہوسکے ۔


































