
نیویارک : اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کی نائب سربراہ جوائس مسویا نے کہا ہے کہ غزہ کا قحط قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی ساختہ ہے۔ عملی اقدامات نہ کئے تو مزید تباہی ہوگی۔ جوائس مسویا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ غزہ میں قحط ایک حقیقت ہے۔ کیونکہ اسرائیل کے محاصرے۔ بمباری اور زندگی بچانے والی ضروری امداد کو روکنے کے باعث بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قحط بائیس ماہ سے اشد ضرورت کی امداد کی محدود اور سمجھوتہ شدہ مقدار۔ کمزور شعبہ صحت۔ ناقص صفائی اور مناسب پناہ گاہوں کی کمی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگ بھوک، بے روزگاری اور موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ عملی اقدامات کرنے میں ناکامی کے ناقابل واپسی نتائج ہوں گے۔


































