Wed Oct 14, 2026

ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار

روزانہ کی خبریں

پیرس میں 60 سال قبل الجزائری باشندوں کا قتل عام جرم، فرانس نے معافی مانگ لی

پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 60 سال قبل پیرس میں پولیس کے الجزائری مظاہرین کے خلاف ہلاکت خیز کریک ڈاؤن کو ناقابلِ معافی جرم تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔ 1961 میں کئے گئے قتل عام کی برسی پر پیرس کے نواحی شہر کولمبس میں منعقدہ تقریب میں متاثرین سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ یہ جرائم پیرس پولیس کے بدنامِ زمانہ سربراہ موریس پاپون کی کمان میں ہوئے تھے۔ 80 کی دہائی میں معلوم ہوا تھا کہ پاپون نے دوسری عالمی جنگ کے دوران قابض نازی افواج کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے یہودیوں کو نازی ڈیتھ کیمپس میں پہنچایا تھا۔ فرانسیسی صدر نے معافی مانگ لی لیکن وہ سماجی کارکنان جنھیں اُمید تھی کہ ذمہ داری زیادہ ٹھوس انداز میں قبول کی جائے گی، اُنھیں اس بیان سے مایوسی ہوئی ہے۔ یہ قتلِ عام الجزائر میں فرانسیسی قبضے کے خلاف جنگ کے دوران ہوا تھا اور فرانسیسی حکومتوں نے کئی دہائیوں تک اس کی تردید کی یا اسے چھپایا۔حال ہی میں اس معاملے پر فرانس اور الجزائر کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوگئی تھی۔ فرانس نے جب الجزائر پر قبضہ کیا تھا تو نو آبادیاتی حکمرانی کے خاتمے اور الجزائر کی آزادی کے حق میں وہاں کے باشندوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے جنھیں طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کی گئی اور سینکڑوں مقامی باشندوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں الجزائر نے فرانس سے اپنے سفیر کو واپس کو بلالیا تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular