
پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 60 سال قبل پیرس میں پولیس کے الجزائری مظاہرین کے خلاف ہلاکت خیز کریک ڈاؤن کو ناقابلِ معافی جرم تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔ 1961 میں کئے گئے قتل عام کی برسی پر پیرس کے نواحی شہر کولمبس میں منعقدہ تقریب میں متاثرین سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ یہ جرائم پیرس پولیس کے بدنامِ زمانہ سربراہ موریس پاپون کی کمان میں ہوئے تھے۔ 80 کی دہائی میں معلوم ہوا تھا کہ پاپون نے دوسری عالمی جنگ کے دوران قابض نازی افواج کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے یہودیوں کو نازی ڈیتھ کیمپس میں پہنچایا تھا۔ فرانسیسی صدر نے معافی مانگ لی لیکن وہ سماجی کارکنان جنھیں اُمید تھی کہ ذمہ داری زیادہ ٹھوس انداز میں قبول کی جائے گی، اُنھیں اس بیان سے مایوسی ہوئی ہے۔ یہ قتلِ عام الجزائر میں فرانسیسی قبضے کے خلاف جنگ کے دوران ہوا تھا اور فرانسیسی حکومتوں نے کئی دہائیوں تک اس کی تردید کی یا اسے چھپایا۔حال ہی میں اس معاملے پر فرانس اور الجزائر کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوگئی تھی۔ فرانس نے جب الجزائر پر قبضہ کیا تھا تو نو آبادیاتی حکمرانی کے خاتمے اور الجزائر کی آزادی کے حق میں وہاں کے باشندوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے جنھیں طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کی گئی اور سینکڑوں مقامی باشندوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں الجزائر نے فرانس سے اپنے سفیر کو واپس کو بلالیا تھا۔


































