
ینگون : میانمار میں فوجی حکام نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں جمہوریت پسند چار کارکنوں کو سزائے موت دے دی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ سزائے موت دی گئی ہے۔ ان چاروں افراد کا رواں برس جنوری میں بند دروازوں کے پیچھے ٹرائل ہوا تھا جس میں انہیں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر فوج سے لڑنے والی ملیشیا کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ میانمار کی فوج نے گزشتہ برس ملک میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اپنے مخالفوں کے خلاف خونی کریک ڈاؤن شروع کا آغاز کر دیا تھا۔ ان سزائے موت کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے اور اقوام متحدہ کے دو ماہرین نے انہیں لوگوں میں خوف پھیلانے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔


































