
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کرلی۔
سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے بانی پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی 10، 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔
سماعت کے آغاز پر عدالت عظمیٰ نے فرد جرم کیخلاف درخواست پر حامد خان کی دلائل کیلئے مہلت کی استدعا منظور کی جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کے پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا جس پر قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیئے کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سائفر کوڈز کی صورت میں آتا ہے، وزارت خارجہ کبھی بھی کوڈز پر مبنی سائفر وزیراعظم کو نہیں دیتا، وزارت خارجہ وزیراعظم کو سائفر کا ترجمہ یا بریفنگ دیتی ہے۔
وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سائفر کوڈز ہر ماہ تبدیل ہوتے ہیں، سائفر کا انگریزی ترجمہ متعلقہ لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن کا کیا کہنا ہے سائفر کس کیساتھ شیئر کیا گیا جس پر وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ سائفر کسی کے ساتھ کبھی شیئر نہیں کیا گیا، جلسے میں کہیں نہیں کہا کہ سائفر میں کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہوگا، جس پر وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ دفعہ 164 کا بیان ملزم کا اعترافی بیان ہوتا ہے، اعظم خان کے اہلخانہ نے انکی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اعظم خان دو ماہ لاپتہ رہے، یہ اغواء برائے بیان کا واقعہ ہے۔
قائم قام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اغواء برائے تاوان تو سنا تھا اغواء برائے بیان کیا ہوتا ہے، جس پر وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے لئے سب سے آسان الفاظ اغواء برائے بیان کے ہی تھے۔
قائمقام چیف جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیئے کہ اغواء برائے بیان ابھی اصطلاح ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں، جس پر وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ اعظم خان کا بیان دباؤ کا نتیجہ ہے تفتیشی افسر نے کوئی تحقیقات نہیں کیں، اعظم خان نے واپس آتے ہی سابق وزیراعظم کے خلاف بیان دیا۔
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وکیل سلمان صفدر نے مؤقف پیش کیا کہ سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، 40 مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوچکی ہے، کسی بھی سیاسی لیڈر کیخلاف ایک شہر میں چالیس مقدمات درج نہیں ہوئے۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم ریاستی دشمن نہیں بلکہ سیاسی دشمن ہیں، سابق وزیراعظم نے خط کے مندرجات کسی سے شیئر نہیں کئے، امریکی سفیر کو بلا کر کہا گیا احتجاج غلط ہے یا پھر سائفر کا مقدمہ، شہباز شریف نے بھی قومی سلامتی کونسل کے نکات کی توثیق کی تھی۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل مکمل کر لئے تو شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے دلائل کا آغاز کر دیا۔
وکیل علی بخاری نے مؤقف پیش کیا کہ شاہ محمود قریشی پر سائفر رکھنے کا الزام ہے نہ شیئر کرنے کا، ان پر واحد الزام تقریر کا ہے اور الزام کا جائزہ عدالت پہلے ہی لے چکی ہے، شاہ محمود قریشی 10 دن ریمانڈ پر رہے، کوئی برآمدگی نہیں ہوئی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا شاہ محمود قریشی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
وکیل علی بخاری نے کہا کہ وہ آج کاغذات جمع کرائیں گے، جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینا ہی ضمانت کیلئے اچھی بنیاد ہے۔
پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے دلائل
پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سائفر کی ایک ہی اصل کاپی تھی جو دفترخارجہ میں تھی، سائفر دفتر خارجہ کے پاس ہے تو باہر کیسے نکلا ہے۔
پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ حساس دستاویزات کو ہینڈل کرنے کیلئے رولز موجود ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ رولز کی کتاب کہاں ہیں، پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ رولز خفیہ ہیں اس لئے عدالت کی لائبریری میں نہیں ہوں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ رولز کیسے خفیہ ہو سکتے ہیں، جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ یہ ہدایت نامہ ہے جو صرف سرکارکے پاس ہوتا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ڈی کوڈ ہونے کے بعد بننے والا پیغام سائفر نہیں ہوسکتا۔
قائمقام چیف جسٹس نے سوال کیا کہ سائفر کا مطلب کیا ہے، جسٹس سردار طارق کے سوال پر جواب دیتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سائفر کا مطلب ہی کوڈڈ دستاویز ہے، ڈی کوڈ ہونے کے بعد وہ سائفر نہیں رہتا۔
جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیئے کہ سائفر جب ڈی کوڈ ہوگیا تو سائفر نہیں رہا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سائفر کے حوالے سے قانون دکھائیں۔
قائمقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا گواہان کے بیانات حلف پر ہیں، جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ گواہی حلف پر ہوتی ہے۔
جسٹس سردارطارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کے مطابق گواہ کا بیان حلف پر نہیں ہے، کیا اعظم خان کی گمشدگی کی تحقیقات کی ہیں، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ اعظم خان نے واپس آنے کے ایک ماہ بعد بیان دیا۔
قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق نے سوال کیا کہ شہباز شریف نے کیوں نہیں کہا کہ سائفر گم گیا ہے، انہوں نے کس دستاویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیا تھا۔
پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سائفر پیش ہوا تھا، جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا اصل سائفر پیش ہوا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے، پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ڈی کوڈ کرنے کے بعد والی کاپی سلامتی کمیٹی میں پیش ہوئی تھی۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سائفر کیس میں سزائے موت کی دفعات بظاہر مفروضے پر ہیں، سائفر معاملے پر غیر ملکی قوت کو کیسے فائدہ پہنچا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ کیا حکومت 1970 اور 1977 والے حالات چاہتی ہے، نگران حکومت نے آپ کو ضمانت کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے، ہر دور میں سیاسی رہنماؤں کیساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے، سابق وزیراعظم کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت سوال عام انتخابات کا ہے، اس وقت سابق چیئرمین پی ٹی آئی نہیں عوام کے حقوق کا معاملہ ہے اور عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سابق وزیراعظم پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں۔
جسٹس سردارطارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تو فیصلہ ہی کر دیا ہے ماشااللہ، اب خالی رسی ہی رہ گئی ہے، یہ بتائیں کہ سائفر دستیاب نہیں تھا تو سلامتی کمیٹی کے دو اجلاس کیسے ہوئے، جس پر پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے جواب دیا کہ سیکرٹری خارجہ کا بیان ہے انہوں نے اجلاس میں ماسٹر کاپی پیش کی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ اسد مجید کے بیان میں کہیں نہیں لکھا کسی دوسرے ملک کو فائدہ پہنچا ہے، عدالت سائفر پبلک کرنے کو درست قرار نہیں دے رہی لیکن بات قانون کی ہے، سزائے موت کی دفعات عائد کرنے کی بنیاد کیا ہے وہ واضح کریں، کسی گواہ کے بیان سے ثابت نہیں ہو رہا کہ کسی غیر ملکی طاقت کو فائدہ ہوا ہے۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں مقدمہ ان کیمرا چلے گا لیکن گواہان کے بیان پڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔
پراسیکیوٹررضوان عباسی نے مؤقف پیش کیا کہ بھارت میں سائفر لہرانے پر بہت واویلا ہوا، جس پر اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کل بلوچ فیملیز کیساتھ جو ہوا اس پر کیا کچھ واویلا نہیں ہوا ہوگا۔
سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی، عدالت نے دونوں کی 10،10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کےعوض ضمانت منظور کی۔


































