
راولپنڈی : پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خضدار میں 21 مئی کو فتنۃ الہندوستان نے بھارت کے حکم پر بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا، دہشت گرد جان بوجھ کر معصوم اور نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کررہا ہے اور گزشتہ 20 سال سے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ 2016 میں دنیا نے بلوچستان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بیوقوفانہ چہرہ کلبھوشن یادو کی شکل میں دیکھا، جوکہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر تھا، جس نے بھارتی حکومت کے احکام پر انجام دیے گئے اپنے تمام گھناؤنے جرائم اور دہشت گردوں کی فنڈنگ کا اعتراف کیا۔ ڈی جی آئی ایس آر نے سانحہ خضدار میں شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کا اصل شیطانی اور سفاکانہ چہرہ ہے، اسے یاد رکھنے کی ضرورت ہے، یہ ہے جو 21 مئی کو بھارت کے حکم پر دہشتگردوں نے کیا، کیا اس میں کوئی انسانیت، کوئی اخلاقیات، کوئی بلوچیت یا کوئی پاکستانیت ہے؟ انہوں نے کہاکہ فتنۃ الہندوستان نے 9 مئی کی صبح سے لے کر رات 2 بجے تک ہندوستان کی ایما پر بلوچستان بھر میں 33 دہشت گرد حملے کیے، جن میں 5 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 22 کو گرفتار کیا گیا، ہندوستان نے جس وقت ڈرون اور میزائل بھیجے اسی وقت فتنۃ الہندوستان کو بھی ایکٹو کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد صرف پیسہ ہے، بھارت انہیں افغانستان میں دستیاب امریکی اسلحہ خرید کر دیتا ہے، اسی طرح فتنۃ الخوارج کا بھی بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے جو کہ واضح ہوتا جا رہا ہے، اتنے مہنگے ہتھیار کون خرید کر دے رہا ہے، ظاہر ہے ہندوستان فنڈنگ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں، ان کے قبضے سے انتہائی مہنگا امریکی اسلحہ برآمد ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ صرف ملٹری فنڈنگ اور قتل و غارت ہی نہیں بلکہ بھارت کا میڈیا ونگ بھی فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے ترجمان بھارتی میڈیا پر ظاہر ہوتے ہیں اور دہشت گردی کا پرچار کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مغرب اور باقی دنیا بھی جانتی ہے کہ بھارت کس طرح پاکستان میں دہشت گردی کررہا ہے۔


































