
باکو : آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک وقفے کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔ دونوں جانب سے گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس میں مجموعی طور پر درجنوں اہلکار ہلاک ہوگئے۔ نگورنو کاراباخ میں آذربائیجان اور آرمینیا کی فوجوں کے درمیان 2020 کے سیز فائر اور آرمینیا کے پسپا ہونے کے بعد کی سب سے بڑائی لڑائی ہے۔ آرمینیا کی وزارت دفاع نے الزام عائد کیا ہے کہ آذربائیجان نے توپ خانے اور آتشیں اسلحے کے ساتھ نگورنو کاراباخ پر حملے کیے۔ علاوہ ازیں گورس، سوٹک اور جرموک کے شہروں پر بھی آرمینیا کے فوجی ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔ آزربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ آرمینیا کی فوج نے کئی مورچوں، شیلٹرز اور پوزیشنز کو گولہ باری کا نشانہ بنایا ہے۔ آرمینیا کے اہلکار سرحد پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اپنے ہتھیار سرحد کے قریب منتقل کر کے کھدائی کی سرگرمیوں میں مصروف تھے ۔ ہلاکتوں کے حوالے سے بھی متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ آرمینیا کے 40 سے زائد فوجیوں کی ہلاکتوں کی اطلاع ہے جب کہ آذربائیجان کے بھی 10 سے زائد فوجی مارے گئے۔ آرمینیا کے وزیرِ اعظم نے آذربائیجان کے ساتھ تازہ سرحدی جھڑپوں کے بعد عالمی رہنماؤں کو ٹیلی فون کیا ہے اور عالمی برادری سے ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ آرمینیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو ٹیلی فون کر کے آذربائیجان کی تازہ جارحانہ کارروائیوں سے آگاہ کیا ہے۔


































