
ڈھاکا : بنگلہ دیش میں لاپتہ لوگوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے کہا کہ حسینہ واجد کے دور میں اغوا کئے گئے کم از کم 287 افراد کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بعض لاشوں کو دریاؤں میں پھینکا گیا ہوگا جن میں دارالحکومت ڈھاکا کا دریائے بوری گنگا بھی شامل ہے، جبکہ کچھ کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا ہو۔ کمیشن کے رکن نور خان لِٹن نے بتایا کہ ہم نے کئی مقامات پر بغیر نشان زدہ قبروں کی نشاندہی کی ہے جہاں لاشیں دفن کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ حکومت لاشوں کی شناخت کے لیے فرانزک ماہرین سے تعاون حاصل کرے اور لواحقین سے ڈی این اے نمونے جمع کر کے محفوظ کیے جائیں۔ کمیشن، اگست 2024 میں حسینہ کی معزولی کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، کمیشن نے اغوا کے 1,569 مقدمات کی تحقیقات کیں، جن میں سے 287 متاثرین کو ہلاک تصور کیا جا رہا ہے۔


































