
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بُک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے صیہونیت نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین سے متعلق پوسٹس پر کمنٹس کو محدود کردیا۔ کمپنی کا کہنا ہےکہ نئی پالیسی کے تحت فیس بُک اور انسٹاگرام پر صارفین کی نئی پوسٹس صرف ان کے ہی خطے میں موجود دوست اور فالورز دیکھ سکیں گے۔ کمپنی نے فلسطینی گروپ حماس کو خطرناک تنظیم قرار دیتےہوئے کہا ہے کہ اس سے متعلق تعریفی مواد پر پابندی ہوگی۔ ادھر انٹرنیٹ پر غزہ کی صورتحال سے متعلق مواد ہٹائے جانے پر حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کردیا ۔ ایکسس ناؤ کی جانب سے یورپی کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا جنگ میں پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے جو پھر ثابت ہورہا ہے۔ خط میں میٹا اور ایکس کے اقدامات پر تشویش کا اظہارکیا گیاہے۔ ایکسس ناؤ کی مینیجر ماروا فتافا نے لکھا کہ دونوں پلیٹ فارم یورپی قوانین کی پابندی نہیں کررہے۔ غزہ سے متعلق قانونی معلومات ہٹانا اور غلط معلومات پھیلانا مظلوموں پر مزید ظلم ہوگا ۔جبکہ جابر قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔


































