
Egypt’s President Abdel Fattah al-Sisi meets with the US Secretary of State (not pictured) in Cairo on October 15, 2023. – After Egypt Blinken will head back to Israel on October 16 for his second visit in less than a week following a tour of six Arab countries on the crisis with Hamas, the State Department said. (Photo by Jacquelyn Martin / POOL / AFP)
قاہرہ : مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی مصر بیدخلی سے فلسسطینی ریاست کے قیام کا مقصد ختم ہو جائے گا۔ مصری صدر نےکہاکہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینیوں کی غزہ سے مصر جبری بے دخلی سے فلسطینیوں کی مغربی کنارے سے اردن کی طرف جبری بے دخلی کی مثال قائم ہوجائے گی۔ مصری صدر کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کو بے دخل کرنا چاہتا ہے تو وہ مسلح گروپوں کیخلاف اپنی کارروائی مکمل ہونے تک انہیں اپنے صحرائے نیگیو میں بھیج سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینی مہاجرین کو مصر بھیجنا خطرناک ہوگا، کیونکہ صحرائے سینا اسرائیل کیخلاف کارروائیوں کا مرکز بن جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیاکہ اگر فلسطینیوں کوجبری بیدخل کیا گیا تو مصری عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔ انہوں نےکہاکہ رفح کراسنگ بند نہیں ہے اس راستے کے نہ کُھلنے کی وجہ اسرائیلی بمباری ہے۔


































