
لاہور میں سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے مسلسل آٹھ روز سے پریس کلب لاہور کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ دھرنے میں شہر بھر سے علمائے کرام وعمائدینِ ملت سمیت شہریوں کی کثیر تعداد شریک ہے۔ دھرنے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی پاراچنار کے مظلومین سے اظہار یکجہتی کیلئے شریک ہے۔ دھرنے میں علامہ علی اکبر کاظمی، علامہ سبطین سبزواری، علامہ امتیاز عباس کاظمی، علامہ حسن رضا ہمدانی، علامہ اسد نقوی، علامہ محمد خان سمیت دیگر قائدین نے شرکت کی۔
وائس چئیرمین ایم ڈبلیو ایم پاکستان علامہ سید احمد اقبال رضوی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے پُرامن دھرنے میں شریک نہتی خواتین پر بہیمانہ تشدد کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں، کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے کی گئی درندگی کہ شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پاراچنار مرکزی دھرنے کے مطالبات تسلیم نہیں ہو جاتے، ہم ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں گردنیں کٹوا لیں گے، لیکن دھرنا ختم نہیں کریں گے۔


































