Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

یورپی ملک مالٹا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان

ویلیٹا: یورپی ملک مالٹا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا. غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مالٹا کے وزیر اعظم رابرٹ ابیلا نے تصدیق کر دی، مالٹا 20 جون 2025 کو فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا۔
خبر ایجنسی کا مزید کہنا تھا کہ فرانس نے بھی جون میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عزم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فرانس اور سعودی عرب جون میں دو ریاستی حل پر مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔
واضح رہے کہ مالٹا نے اپریل 2023 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا، تاہم اس کے باوجود ملک نے تاحال فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے 193 میں سے 147 رکن ممالک اب تک فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔
حالیہ برسوں میں آرمینیا، سلووینیا، آئرلینڈ، ناروے، اسپین، بہاماس، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، جمیکا اور بارباڈوس جیسے ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ تاہم اس بڑھتی ہوئی عالمی حمایت کے باوجود امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور جرمنی سمیت کئی اہم مغربی طاقتوں نے اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ گزشتہ ماہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے عندیہ دیا تھا کہ فرانس آئندہ مہینوں میں اس بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular