
اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود بارک نے نیتن یاہو سے مستفی ہونے کا مطالبہ کر دیا اور کہا حماس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ وہ ایک نظریاتی تنظیم ہے۔ اسرائیلی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں ایہود بارک نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا نتین یاہو اگر کسی عام ملک کے وزیراعظم ہوتے تو حماس کے حملوں کے بعد مستعفی ہوجاتے۔ حماس سے متعلق سوال پر ایہود بارک نے کہا کہ مزاحمتی تنظیم کو مٹانا ممکن نہیں ۔حماس ایک نظریاتی گروپ ہے جو فلسطینیوں کے دل و جاں میں بستا ہے۔ غزہ میں اسرائیل عسکری اور سیاسی طور پر کچھ حاصل نہیں کرسکا۔ ایہود بارک کے مطابق اسرائیل حزب اللّٰہ کے ساتھ محاذ کھولنے میں دلچسپی نہیں رکھتا ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اسرائیل کی ایسی حمایت کبھی نہیں کی اس کی بہرحال ایک قیمت ہوگی.


































