
A member of Palestinian security forces stands guard on the border between Egypt and southern Gaza Strip, in Rafah, on March 5, 2015. Gaza’s border crossings will be reopened once control of them is handed over to the Palestinian Authority, Egypt’s Ambassador to the Palestinian Authority (PA) Wael Attia said. Photo by Abed Rahim Khatib/Flash90 *** Local Caption *** âáåì îöøééí ôìñèéðé ôìùúéðé ôìùúéðàéí ôìñèéðàéí äáéèçåï äìàåîé äøùåú äôìñèéðéú
قاہرہ : مصر نے غزہ امن منصوبے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی حکمرانی کا حق نہ ملا تو قاہرہ کسی بھی بین الاقوامی امن فوج میں شامل نہیں ہوگا۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق غزہ امن منصوبے میں مصر کو کلیدی سکیورٹی پارٹنر کے طور پر شامل کیا گیا ہے مگر قاہرہ اس بات پر ناراض ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی کوئی واضح ضمانت نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق عرب عہدیداروں کے مطابق مصر بغیر اسرائیلی انخلا اور فلسطینی خودمختاری کے کسی بھی امن مشن کا حصہ نہیں بنے گا۔ مصراور دیگر ممالک ناخوش ہیں کیونکہ وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ تفصیلات ان وعدوں سے مختلف ہیں جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر طے پائے تھے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک فلسطینی اتھارٹی کو نظرانداز کرنا نہ صرف منصوبے کی کمزوری ہے بلکہ اس سے امریکہ اور مصر کے تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔


































