
انقرہ : شامی پناہ گزینوں کا کیلے کھانا ترک حکومت کو پسند نہ آیا اور اس نے سوشل میڈیا پر کیلے کھانے کی تصاویر یا ویڈیوز پوسٹ کرنے والوں کو پکڑ پکڑ کر ملک سے نکالنا شروع کردیا۔ مغربی شہر ازمیر میں چھوٹے بچے سمیت 8 شامی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 7 شامی شہریوں کو مہم کا حصہ بننے کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔ترکی میں شامی شہری 17 اکتوبر سے آن لائن مہم کے تحت سوشل میڈیا پر کیلے کھانے کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر رہے ہیں۔ یہ مہم استنبول کی ایک سڑک پر شامی خاتون اور کچھ ترک شہریوں کے درمیان جھگڑے کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئی۔اس بحث کی ویڈیو ایک ویب سائٹ نے جاری کی ہے۔ جس میں ایک ترک شہری کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ آپ یہاں پر سکون زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم تو کیلے بھی نہیں کھا سکتے، جب کہ آپ لوگ کیلے کلو گرام کے حساب سے خرید رہے ہیں۔ ترکی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائیگریشن مینجمنٹ نے کہا کہ تمام اشتعال انگیز پوسٹس کو پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ان پوسٹوں کو شیئر کرنے والوں کے خلاف ضروری عدالتی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔


































