
کابل : افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد طالبان امیر ملا ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ پہلی بارمنظرِ عام پرآگئے۔ وہ قومی جرگہ میں شرکت کیلئے پہلی بار دارالحکومت کابل پہنچے۔ انہوں نے ایک گھنٹے تک جرگےسے پشتو میں خطاب کیا جسے صرف سرکاری ریڈیو پر نشر کیا گیا۔ ملاہیبت اللّٰہ اخوندزادہ نے حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک میں مکمل اسلامی نظام نافذ کریں۔ دنیا طالبان کو یہ بتانا بند کر دے کہ افغانستان کو کیسے چلانا ہے؟ انہوں نے شرعی قوانین پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامیاب اسلامی ریاست کا یہ واحد نمونہ ہے۔ دنیا ہمارے معاملات میں مداخلت کیوں کر رہی ہے؟وہ کہتے ہیں تم یہ کیوں نہیں کرتے، تم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ دنیا ہمارے کام میں مداخلت کیوں کرتی ہے۔ ہیت اللہ اخوندزادہ مشکل سے ہی قندھار، جہاں سے طالبان تحریک شروع ہوئی، سے باہر نکلتے ہیں۔ ان کی ایک تصویر اور تقریروں کی ریکارڈنگز کے علاوہ ان کا ڈیجیٹل دنیا میں کوئی نام و نشان نہیں ہے۔


































