
نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ترقی یافتہ ممالک، عالمی مالیاتی اداروں اور فوسل ایندھن استعمال کرنے والی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان سمیت موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں عام بحث کا آغاز کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے تمام ممالک سے فوسل فیول استعمال کرنے والی کمپنیوں پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم سے گلوبل وارمنگ اور مہنگائی میں اضافے کا ازالہ ہونا چاہیے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے کم ذمہ دار ملک کو زیادہ تباہی کا سامنا ہے، اس کے لیے ہمیں اقدامات کرنا ہوں گے۔ ترقی یافتہ ممالک اصلاحات سے آراستہ مالیاتی ڈھانچہ تیار کر کے ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں۔ انہوں ںے مختلف ممالک پر زور دیا کہ وہ امن اور یکجہتی کے ذریعے بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے تیزی سے کام کریں اور دنیا کو دوبارہ بحالی کی طرف لائیں۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک سرکاری اور نجی شعبے کی مالی اعانت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ اصلاحاتی مالیاتی ڈھانچہ ترتیب دیں تاکہ ترقی پذیر ممالک کو فائدہ پہنچایا جاسکے اور انہیں قرض سے نجات ملے۔ترقی یافتہ ممالک صحت، تعلیم اور فلاح و بہبود کے منصوبوں پر سرمایہ کاری بڑھائیں اور عالمی سماجی تحفظ کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں۔


































