Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

بنیادی اشیا کی رسائی روکنا بھی ممکنہ طور پر جنگی جرم ہے، اقوام متحدہ

نیویارک: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے غزہ میں امریکا کی حمایت یافتہ امدادی مقامات کے قریب 100 سے زائد فلسطینیوں کے قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لارنس نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی شخص کس قدر بھوک سے مجبور ہو کہ وہ طویل فاصلہ طے کر کے خوراک کے لیے جا رہا ہو، اور اسے یہ خوف ہو کہ اسے گولی مار دی جائے گی یا وہ خالی ہاتھ واپس آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قحط کے خطرے سے دوچار ہیں، شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ جنگی جرم ہے جب کہ جان بوجھ کر شہریوں کے لیے خوراک یا دیگر بنیادی اشیا کی رسائی روکنا بھی ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular