
نیویارک: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے غزہ میں امریکا کی حمایت یافتہ امدادی مقامات کے قریب 100 سے زائد فلسطینیوں کے قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لارنس نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی شخص کس قدر بھوک سے مجبور ہو کہ وہ طویل فاصلہ طے کر کے خوراک کے لیے جا رہا ہو، اور اسے یہ خوف ہو کہ اسے گولی مار دی جائے گی یا وہ خالی ہاتھ واپس آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قحط کے خطرے سے دوچار ہیں، شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ جنگی جرم ہے جب کہ جان بوجھ کر شہریوں کے لیے خوراک یا دیگر بنیادی اشیا کی رسائی روکنا بھی ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔


































